جمعہ 27 فروری 2026 - 17:35
جناب خدیجہ کبریٰؑ سیدۂ اسلام ایمان، وفاداری اور ایثار کی درخشاں مثال

حوزہ/ حضرت محمد ﷺ اور حضرت خدیجہؓ کا نکاح محض جذبات یا معاشی مفادات پر مبنی نہیں تھا بلکہ: باہمی شناخت اور اعتماد پر قائم تھا، اخلاقی معیاروں پر مبنی تھا، طبقاتی فرق سے بالا تھا ، عمر کے تفاوت سے متاثر نہ تھا۔ 

تحریر: مولانا سید منظور عالم جعفری سرسوی

حوزہ نیوز ایجنسی I اسلام کی ابتدائی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہیں جن کی ایثار، بصیرت اور عملی حمایت نے دینِ اسلام کی بنیادوں کو استحکام بخشا۔ ان عظیم ہستیوں میں سرفہرست نام حضرت خدیجہؑ بنت خویلد کا ہے، جنہوں نے نہ صرف بطورِ زوجہ رسولِ اکرم ﷺ بلکہ بطور ایک مخلص مؤمنہ، مدبر خاتون اور فداکار شخصیت کے طور پر اسلام کی ترویج و استحکام میں بنیادی کردار ادا کیا۔

حضرت محمدﷺ کی بعثت کے آغاز ہی میں آپؑ کی غیر متزلزل حمایت، مالی ایثار، اخلاقی تقویت اور سماجی پشت پناہی نے نوخیز اسلامی تحریک کو سہارا دیا۔ شعبِ ابی طالبؑ کے کٹھن ایام ہوں یا مکہ کے ابتدائی دعوتی مراحل، ہر موقع پر حضرت خدیجہؑ کی قربانیاں تاریخِ اسلام کا درخشاں باب ہیں۔

زیرِ نظر مقالہ میں حضرت خدیجہؑ کی حیاتِ طیبہ، آپ کے اوصافِ حمیدہ، خدماتِ اسلام، اور ابتدائی اسلامی معاشرے میں آپ کے کردار کا علمی و تحقیقی جائزہ پیش کیا جائے گا، تاکہ موجودہ دور میں خواتین کے لیے آپ کی سیرت کو ایک عملی نمونہ اور فکری رہنما کے طور پر اجاگر کیا جا سکے۔

خاندانی عظمت اور نسبی شرافت

حضرت خدیجہ کبریٰؓ کا تعلق معزز قبیلہ قریش سے تھا۔ آپ کے والد خویلد بن اسد ایک باوقار اور صاحبِ حیثیت شخصیت تھے۔ نسب کے اعتبار سے آپ اور رسول اکرم ﷺ دونوں حضرت قصی بن کلاب کی اولاد میں سے تھے، اس طرح خاندانی شرافت، سماجی وقار اور اخلاقی بلندی آپ کی شخصیت کا بنیادی حصہ تھا۔ آپ کا خاندان عزت، دیانت اور قیادت کے اوصاف سے پہچانا جاتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ مکہ میں آپ کو غیر معمولی احترام حاصل تھا اور آپ کو “سیدۂ قریش” اور “طاہرہ” کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا۔ بلاذری نے واقدی سے یوں نقل کیا ہے: خدیجہؑ بنت خویلد اعلی حسب و نسب کی مالکہ اور ایک دولت مند تاجر خاتون تھیں ۔

قبل از اسلام شخصیت: طاہرۂ مکہ

اسلام سے قبل کا عرب معاشرہ جہالت، بت پرستی اور اخلاقی انحطاط کا شکار تھا، مگر حضرت خدیجہؓ ان حالات سے متاثر نہ ہوئیں۔آپ پاکدامنی اور عفت میں ممتاز تھیں، ایک کامیاب اور دیانتدار تاجرہ تھیں، خدا واحد پر ایمان رکھتی تھیں، حاجتمندوں کی مدد اور محتاجوں کی کفالت آپ کی عادت تھی۔

آپ کا گھر عبادت، فکری نشستوں اور علمی گفتگو کا مرکز تھا۔ آپ کے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل آسمانی کتب کے عالم تھے اور آپ ان سے دینی گفتگو کرتی تھیں۔

نورانی خواب اور نبوت کی بشارت

ایک مشہور روایت کے مطابق حضرت خدیجہؓ نے خواب میں سورج کو اپنے گھر میں اترتے دیکھا ۔ جب اس خواب کی تعبیر ورقہ بن نوفل نے بیان کی تو انہوں نے فرمایا کہ نورِ نبوت تمہارے گھر کو منور کرے گا۔

بعد میں ایک اہلِ کتاب عالم نے کعبہ کے پاس خواتین سے خطاب کرتے ہوئے اس نوجوان (حضرت محمد ﷺ) کے بارے میں نبوت کی بشارت دی۔ ان واقعات نے حضرت خدیجہؓ کے دل میں یقین پیدا کر دیا کہ یہی وہ ہستی ہیں جن کا انتظار ہے۔

بعض مورخین جیسے بلاذری نے أنساب‏ الأشراف میں ، ابن‌سعد نے الطبقات‏ الكبرى میں ، ابن‌ عبدالبر نے الاستیعاب میں ،، ابن خلدون نے تاریخ‏ ابن‏‌خلدون میں، آپؑ کو پیغمبر اسلام ﷺپر ایمان لانے والے پہلے مسلمان قرار دیتے ہیں۔ بعض مورخین کے مطابق اس بات پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے کہ حضرت خدیجہ پیغمبر اسلام پر ایمان لانے والی پہلی شخصیت تھیں ۔

اسی طرح اسلام میں السّابقون کے مصادیق کی تعیین میں بعض مآخذ حضرت خدیجہ ؑ اور حضرت علیؑ کو پیغمبر اکرمؐ پر ایمان لانے والے پہلے اشخاص قرار دیتے ہیں ۔ اسی طرح ان مآخذ میں سب سے پہلے نماز قائم کرنے والوں میں بھی حضرت علیؑ کے ساتھ حضرت خدیجہ کا نام لیتے ہیں ۔

نکاح: شعور، ایمان اور انتخاب کی مثال

حضرت محمد ﷺ اور حضرت خدیجہؓ کا نکاح محض جذبات یا معاشی مفادات پر مبنی نہیں تھا بلکہ: باہمی شناخت اور اعتماد پر قائم تھا، اخلاقی معیاروں پر مبنی تھا، طبقاتی فرق سے بالا تھا ، عمر کے تفاوت سے متاثر نہ تھا۔

حضرت خدیجہ سے شادی کے وقت حضرت محمد ﷺ کی عمر ۲۱ سے ۳۷ سال کے درمیان ذکر کی گئی ہے ۔ لیکن جو چیز تمام مورخین کے یہاں قابل اعتماد ہے وہ ۲۵ سال ہے ۔چنانچہ مآخذ میں آیا ہے کہ جب حضرت خدیجہؑ حضرت محمدؐ کے نیک سلوک، اچھے گفتار، اعلی اخلاقی اقدار اور امانت داری سے متاثر ہوئیں تو انہوں نے پبغمبر اکرمؐ کو اپنے تجارتی سامان پر امین مقرر کرکے تجارت کے لئے شام روانہ کیا اور اس سفر سے واپسی پر جب میسرہ نامی اپنے غلام کی زبانی پیغمبر اکرمؐ کے منفرد خصوصیات سے آشنا ہوئیں تو انہوں نے حضرت محمدؐ سے شادی کی خواہش ظاہر کی ۔بعض مورخین اس بات کے معتقد ہیں کہ حضرت خدیجہ نے پیغمبر اکرمؐ کی صداقت، امانت‌، حسن خلق اور نیک سلوک سے متاثر ہو کر آپ سے شادی کی خواہش ظاہر کی ۔

پیغمبر اکرم ﷺ کو جناب خدیجہؑ سے بے پناہ محبت تھی آپ نے ان کی زندگی تک دوسری شادی نہیں کی، پچیس سال مشترکہ زندگی گزاری، ان کی وفات کے بعد آپﷺ نے فرمایا: ما أبدلنی اللہ خیرا منہا، صدقتنی إذ کذبنی الناس وواستنی بمالہا اذ حرمنی الناس، ورزقنی اللہ الولد منہا ولم‌یرزقنی من غیرھا؛ ترجمہ:خدا نے خدیجہ سے بہتر کوئی عورت مجھے نہیں دی۔ جب لوگ مجھے جھوٹا کہتے تھے، تو وہ میری سچائی کی گواہی دیتی اور جب لوگوں نے مجھ پر پابندیاں لگائیں تو اس نے اپنی دولت کے ذریعے میری مدد کی۔ اور خدا نے اس سے مجھے ایسی اولاد عطا کی جو دوسری زوجات سے عطا نہیں کی ۔

بعض معتقد ہیں کہ حضرت خدیجہ کی مادی اور دنیاوی دولت سے زیادہ ان کی معنوی ثروت اہمیت کا حامل تھی۔ انہوں نے قریش کے بزرگان اور اشراف کی طرف سے دی گئی شادی کی پیشکش کو ٹھکرانے اور پیغمبر اکرمؐ کو اپنے شوہر کے طور پر انتخاب کرنے کے ذریعے مادی اور دنیوی مال دولت پر اخروی سعادت اور بہشت کے ابدی نغمات سے بہرہ مند ہونے کو ترجیح دے کر اپنی عقلمندی اور دور اندیشی کا ثبوت دیا۔ انہوں نے ان نعمتوں سے بہرہ مند ہونے کے لئے سب سے پہلے پیغمبر اکرمؐ کی تصدیق کی اور ان کی معیت میں نماز قائم کر کے اولین مسلمان ہونے کا اعزاز بھی اپنے نام کر لیا۔

اسلام کی مالی پشت پناہ

ابتدائی اسلام شدید مخالفت اور معاشی دباؤ کا شکار تھا۔ حضرت خدیجہؓ نے اپنی ساری دولت دینِ اسلام کے لئے وقف کر دی۔ اور فرمایا: ”میرا مال، میری جان اور میرا گھر سب آپ کے لئے ہے“۔

حضرت خدیجہؑ کی مالی امداد کی بدولت رسول اکرم ﷺ تقریبا غنی اور بے نیاز ہو گئے۔ خداوند متعال آپﷺ کو اپنی عطا کردہ نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: وَوَجَدَكَ عَائِلًا فَأَغْنَىٰ ترجمہ: اور (خدا نے) آپ کو تہی دست پایا تو مالدار بنایا۔ رسول اللہ ﷺ خود بھی فرمایا کرتے تھے: ما نَفَعَنِي مالٌ قَطُّ ما نَفَعَني (أَو مِثلَ ما نَفَعَني) مالُ خَديجة ترجمہ: کسی مال نے مجھے اتنا فائدہ نہیں پہنچایا جتنا فائدہ مجھے خدیجہؑ کی دولت نے پہنچایا۔

خصوصاً شعب ابی طالب کے تین سالہ محاصرے میں آپ کی دولت نے مسلمانوں کی جان بچانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ یہاں تک کی احادیث میں آیا ہے کہ: أنفق أبو طالب وخديجة جميع مالہما " ترجمہ: ابو طالب ؑ اور خدیجہؑ نے اپنا پورا مال (اسلام اور قلعہ بند افراد کی راہ میں) خرچ کیا۔ یہ تاریخی حقیقت ہے کہ اسلام کی ابتدائی مضبوطی تین عناصر سے ہوئی:

• رسول اکرم ﷺ کا اخلاق۔

• حضرت علی علیہ السلام کی تلوار۔

• حضرت خدیجہ علیہا السلام کی دولت۔

ازدواجی زندگی کی مثالی خصوصیات

حضرت خدیجہؓ اور رسول اکرم ﷺ کی ازدواجی زندگی کئی حوالوں سے نمونہ عمل ہے:

1. باہمی احترام۔لہذا ہمیں بھی اپنی بازدواجی زندگی میں ایک دوسرے کا احترام کرنا چاہیے۔

2. اعتماد اور وفاداری، ازداوجی زندگی سب سے بڑی کامیابی کا راز ایک دوسرے پر اعتماد اور بھروسہ کرنا اور وفا کرنا ہے۔

3. طبقاتی تفاخر سے پاک تعلق، اگر میاں بیوی کے درمیان کسی بھی وجہ سے کوئی طبقاتی فرق ہو تب بھی ایک دوسرے کو طعنہ زنی اور دل آذاری نہیں کرنا چاہیے۔

4. بزرگوں کا ادب، آج کل گھروں کی بربادی کا ایک اہم سب بزرگوں کا ادب و احترام ختم ہونا ہے ۔

5. شوہر کی رسالت کا ادراک، ہمیشہ بیوی کو شوہر کی ذمہ داریوں کو نبھانے میں اس کی مدد کرنا چاہیے۔

6. دوسروں کی طعنہ زنی سے بے اثر رہنا، اکثر دیکھا جاتا ہے لوگوں کی طعنہ زنی سے گھبراکر میاں بیوی ان امور کو انجام دیتے ہیں جن کیوجہ سے ان کی زندگی دشواریوں میں گھرتی چلی جاتی ہے، جس کے نتیجہ میں آپس میں اختلاف پیدا ہونے لگتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے سب سے لمبی ازدواجی زندگی آپ کے ساتھ گزاری۔ آپﷺ نے اپنی پوری زندگی میں حضرت خدیجہؓ کی وفات تک دوسری شادی نہیں کی۔پیغمبر اکرمؐ آپ کی وصال کے سالوں بعد بھی آپ کو یاد فرماتے ہوئے آپ کو بے نظیر اور بے مثال خاتون قرار دیتے تھے۔ جب حضرت عائشہ نے پیغمبر اکرمؐ سے کہا کہ خدیجہؑ آپ کے لئے ایک بوڑھی زوجہ سے زیادہ کچھ نہیں تھی، تو پیغمبر اکرمؐ بہت ناراض ہو گئے اور اس بات کے جواب میں فرمایا: "خدا نے میرے لئے خدیجہ ؑسے بہتر کوئی زوجہ عطا نہیں فرمایا، اس نے اس وقت میری تصدیق کی جب میری تصدیق کرنے والا کوئی نہیں تھا، اس نے اس وقت میری مدد کی جب میری مدد کو کوئی حاضر نہیں تھا اور اس وقت اپنی دولت کا مکمل اختیار مجھے دے دیا جب دوسرے مجھے اپنی دولت سے دور رکھے جا رہے تھے ۔

نتیجہ: حضرت خدیجہ کبریٰؑ کی سیرت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ:

• ایمان دولت سے بڑا ہے۔

• وفاداری محبت سے بڑھ کر ہے۔

• ایثار تاریخ بدل دیتا ہے۔

• عورت معاشرے کی بنیاد مضبوط کر سکتی ہے۔

آپ نہ صرف رسول اکرم ﷺ کی شریکِ حیات تھیں بلکہ دینِ اسلام کی اولین معمار، پہلی مؤمنہ، عظیم مجاہدہ اور مادرِ اسلام تھیں۔

آپ کی شخصیت ایمان، حکمت، سخاوت، صبر اور وفاداری کا وہ روشن مینار ہے جس کی روشنی قیامت تک اہلِ ایمان کو راستہ دکھاتی رہے گی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha